NEWS

خلیل الرحمان قمر کا مؤقف اور پاکستانی عوام کی رائے

خلیل الرحمان قمر کا مؤقف اور پاکستانی عوام کی رائے

3 مارچ منگل کے دن نجی ٹی وی چینل پر ایک ایسا واقعہ پیش آیا جِس نے دیکھنے والوں کو بہت زیادہ مایوس اور شرمسار کر دِیا۔

ایک ٹاک شو میں پاکستان کے صف اول کے نامور ڈرامہ رائٹر خلیل الرحمٰن قمر اور معروف سماجی کارکن ماروی سرمد کو مدعو کیا گیا۔ عورت مارچ کے حوالے سے ترتیب دیے گئے پروگرام میں صورتحال اس وقت انتہائی بگڑگئی جب ایک سوال کا جواب میں خلیل الرحمٰن قمر اپنا مؤقف بیان کرتے ہوئے کہا کہ ‘جب عدالت بھی میرا جسم میری مرضی جیسے غلیظ اور گھٹیا نعروں پر پابندی لگا چکی ہے، تو اب یہ جملہ سنتے ہوئے تو میرا کلیجہ منہ کو آتا ہے’۔جواب میں ماروی سرمد نے ان کی بات کو کاٹتے ہوئے باآواز بلند یہ نعرہ دہرا دِیا جس پر خلیل الرحمٰن قمر نے انھیں چپ رہنے کو کہا اور اپنی باری پر بات کرنے کو کہا مگر ماروی سرمد خاموش نہ ہوئی اور معروف ڈرامہ نگار خلیل الرحمان کو شٹ اپ کی کال دی جس پر وہ غصے سے آگ بگولہ ہو گئے اور دونوں کے درمیان سخت تلخ کلامی ہو ئی ۔
تقریباً دو منٹ تک جاری رہنے والی گفتگو کے دوران خلیل الرحمن قمر کی جانب سے نازیبا جملوں کا استعمال بھی ہوا ۔

دونوں کے رویے کے حوالہ سے سوشل میڈیا پر پاکستانی اورغیر ملکی عوام پاکستان اور دنیا بھر سے مختلف تبصروں کی صورت میں اپنی رائے کا اظہار کر رہے ہیں ۔

95 فیصد سے زائد افراد خلیل الرحمان قمر کے حق میں مختلف طریقوں سے کمنٹس کے ذریعے اپنی رائے کا اظہار کیا ہے ۔ جبکہ 5 سے بھی کم لوگوں کے خیال میں ماروی سرمد کا رویہ درست تھا مگر ماروی سرمد کے حق میں اپنی رائے کا اظہار کرنے والوں کی اکثریت خلیل الرحمان قمر کے بات کے انداز کو غلط قرار دیتے ہیں جبکہ ان کی مؤقف کے وہ بھی حمایت کرتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ یہ نعرہ (میرا جسم میری مرضی ) ہی غلط اور بکواس نعرہ ہے ۔ جس سے بے ہودگی کی آمیزش بڑی عیاں ہے ۔

اسی طرح سوشل میڈیا پر اپنی رائے کا اظہار کرنے والے کچھ افراد دونوں کو ہی غلط قرار دے رہے ہیں ۔

دوسری طرف بہت سے اسلامی تنظیموں نے بھی مارچ کے اس مہینے میں تحفظ ِحقوق نسواں ، تکریم نسواں واک اور اس طرح کے دیگر اسلامی اقدار کے مطابق عنوانات سے مارچ کا اہتمام کیا ، جن میں کثیر تعداد میں عورتوں نے حصہ لیا اور میرا جسم میری مرضی جیسے ناقابل قبول عنوانات کو رد کیا ۔

رائے دینے والے افراد میں ایک طبقہ ایسا بھی تھا جس نے دونوں شخصیات کو ہی غلط قرار دیا- لیکن ایک بڑے طبقے نے خلیل الرحمان قمر کے بات کرنے کے انداز کو غلط لیکن ان کے مؤقف کو درست قرار دیا-

اپنی اظہارِ رائے جرنے والے کچھ افراد کا یہ خیال بھی ہے کہ ‘جِس معاشرے میں عورتوں کی پسند ماروی سرمد جیسی خاتون ہو اور وہ اس کے اسلام مخالف نظریات کو فالو کریں اس معاشرے میں اخلاقِ عالیہ کی توقع کم ہی کی جا سکتی ہے ‘۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Most Popular

Waseelah is an initiative which aims to promote tolerance and harmony. Lately, it has been plagued the horrors of extremism, and this ideology stems from the irrational and illogical reasoning given by people, with underlying motives, to destabilize the country. The waseelah wants to make the bigger picture obvious; our idea is to sow love and peace in world wide .

calendar

October 2020
M T W T F S S
« Aug    
 1234
567891011
12131415161718
19202122232425
262728293031  
To Top